غزہ،اسرائیلی بمباری سے دو حاملہ خواتین اوربچوں سمیت23افراد شہید

News

فلسطین میں ماہ صیام کی آمد کے ساتھ ہی اسرائیلی حملوں میں تیزی آگئی۔ اسرائیلی فورسز نے رات گئے غزہ پر ایک مرتبہ پھر فضائی اور زمینی حملہ کیا اور نہتے فلسطینوں پر بم برسا دیئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعے سے جاری فضائی اور زمینی حملے میں شہداء کی تعداد ستائیس ہوگئی۔ شہدا میں دو حاملہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

شمالی غزہ پر بمباری سے چودہ ماہ کی بچی اپنی حاملہ ماں کے ساتھ شہید ہوگئی۔ دیگر علاقوں میں بھی کئی فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ اسرائیلی ٹینکوں نے بیتِ حنون کے زرعی علاقوں پر شدید گولا باری کی۔ شیلنگ سے شہریوں کی بڑی تعداد زخمی بھی ہوئی۔ حملوں کے بعد اسرائیلی فوج کے غزہ میں داخل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر چار سو راکٹ داغے جانے کے بعد فلسطینی علاقوں پر فضائی اور ٹینکوں سے حملے شروع کیے گئے۔  ترک وزیر خارجہ مولود چاؤ شولو نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں اسرائیلی حملوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوگآن نے اناتولو نیوز ایجنسی کے دفتر کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی دنیا کو اسرائیلی دہشت گردی کے بارے میں بتاتا رہے گا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق حماس اور اسلامی جہاد کے راکٹ حملوں میں 4 اسرائیلی شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے فوجی ٹینک غزہ کی باڑ پر پہنچا دیئے ہیں اور خدشہ ہے کہ غزہ میں زمینی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔